جنات کا مسکن گھر
شادی ہو کر جس گھر میں آئی۔ یہ گھر کم جنات کا مسکن زیادہ لگتا تھا۔ حویلی ٹائپ یہ گھر۔ جس میں دو پورشن تھے اور اسکے اوپر چھت۔ دونوں پورشن میں تقریبا پانچ پانچ کمرے تھے گھر کے آگے بڑا سا لان۔جو کہ ہریالی اور درختوں سے بھر پور تھا اور کافی خوبصورت لگتا تھا۔لیکن رات کے وقت یہ بہت خوف دلاتا تھا۔اور اتنے بڑے گھر میں رہنے والا کون۔ صرف میری ساس اور شوہر۔ اور اب تیسرا فرد میں ۔اس گھر کو میں نے جنات کا مسکن اس لیئے کہا کہ سناٹا یہاں دن کے وقت بھی رات جیسا ہوتا تھا۔ ساس میری کم گو تھیں۔ کمرہ بند کر کے اپنی عبادات تسبیحات میں لگی رہتیں۔ شوہر آفس ہوتے۔ میں اس گھر میں اکیلی بھلا کیا شور مچاتی۔؟ کام والی آتی تھی۔ کام کر جاتی۔ کھانا پکانے والی بھی آتی تھی۔ مگر میں نے اسے ہٹا دیا۔ اگر میں کھانا بھی نا پکاتی تو دن بھر کیا کرتی۔ بہرحال۔ بہت جلد ہی مجھے احساس ہو گیا کہ یہاں ہمارے سوا کوئی نہیں رہتا یہ میری بہت بڑی غلط فہمی تھی۔ کوئی تھا۔ جو بہت پہلے سے یہاں رہ رہا تھا۔ اب معلوم نہیں اسے میری موجودگی پسند نہیں آ رہی تھی یا وہ مجھے اپنی موجودگی سے آشنا کرانا چاہتا تھا۔ میں سمجھ نہیں پا رہی ...